20 اگست 2026 - 15:36
علی عمار: لبنانی عہدیدار ذمہ داریوں سے فرار نہ ہوں، اپنے ضمیر کی آواز سنیں

لبنانی پارلیمنٹ کے رکن اور وفاداریِ مزاحمت پارلیمانی بلاک کے رکن علی عمار نے ملکی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے لبنانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کی حقیقت کو درست طور پر سمجھیں، اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہ کریں اور لبنان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے قومی وقار اور ضمیر کے مطابق راستہ اختیار کریں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ کے رکن علی عمار نے برج البراجنہ میں سیدالاوصیاء کمپلیکس میں مزاحمت کے شہید محمد سلیم حمیہ کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لبنان میں مزاحمت کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کا مقام اور عزت، خواہ وہ کسی بھی عہدے یا ذمہ داری پر فائز ہو، مزاحمت اور اس کے ہتھیار کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی۔

علی عمار نے بعض لبنانی سیاسی حلقوں کو خبردار کیا کہ وہ ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ ان کے بقول اس سے اسرائیل کو لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اپنے مفادات حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے خطے میں امریکی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نہ تو اقوام کی خودمختاری اور قومی وقار کا حقیقی دفاع کیا اور نہ ہی ان کے مفادات کا تحفظ کیا، بلکہ مختلف مواقع پر عوام کو دباؤ میں رکھنے، قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور ممالک کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی پالیسیاں اختیار کیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ویتنام، افغانستان، پاکستان، عراق، یمن، فلسطین اور لبنان کا ذکر کیا۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے مزاحمت کے ہتھیار کو اسرائیل کے خلاف مقابلے کے لیے قائم کیا گیا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب لبنانی حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ اور ملک کی سرزمین و سمندری حدود کی حفاظت میں ناکام رہی تو مزاحمت میدان میں آئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت نے اپنے ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کیے ہیں اور انہیں لبنان کے اندرونی تنازعات میں استعمال نہیں کیا۔

علی عمار نے آخر میں لبنانی حکام اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی صورتحال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھیں اور لبنان کے تحفظ کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل لبنان کی بھلائی اور قومی مفادات کے خواہاں نہیں ہیں، اس لیے لبنانی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر اور قومی وقار کی طرف واپس آئیں اور ملک و عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha